Pope Benedict XVI remarks – A Lahori Perspective

20060814_a-firefly.jpg

Recent comments by Pope Benedict XVI during his speech in a German university have sparked wide spread condemnation and protests worldwide. Like other cities of Pakistan, religious parties have arranged a demonstrations in Lahore too.

I think Pope didn’t get a good advice this time, which is usually the case whenever he is making a speech. It was obvious that his remarks will provoke a controversy. But without going into a debate we should first read the full text of speech he made and then comment. I have read the full text of Pope’s speech available here. The remarks (you can read exact remarks and the background in 2nd and 3rd paragraph of his full speech) which have been taken as most offensive are actually quoted from a book recounting a conversation between 14th-century Byzantine Christian Emperor Manuel Paleologos II and “an educated Persian” on the truths of Christianity and Islam. I think he quoted an excerpt to start a thought provoking debate between great cultures of this world. Specially after reading the last paragraph, I do not think he himself agrees with the views of Emperor Manuel Paleologos II but he was just quoting it to start a debate. I am not sure though that he used enough or right words to convey his intentions clearly and that’s where I personally see the problem.

The last paragraph is worth reading though where he talks about need for a dialogue between different religions and cultures. “A just consideration of the religious dimension is, in fact, an essential premise for fruitful dialogue with the great cultures and religions of the world.” And then he carries on “the world’s profoundly religious cultures see this exclusion of the divine from the universality of reason as an attack on their most profound convictions”

After Pope’s apology today, I hope the controversy should end now and focus should be shifted on contents of his speech. There is definitely a need for positive and healthy dialogue between two great religions of the world. After all it’s one world we all share and it’s extremely important to understand and respect each other’s views and beliefs. There is a lot to be done on our side to show people the real face of Islam which is its message of peace and that can only be done by convincing people with logic and dialogue.

6 Comments so far

  1. Caveman (unregistered) on September 17th, 2006 @ 9:50 pm

    If the pope wanted to start a healty dialouge, he should have mentioned Crusades and inquisitions and violent past of Christianinty.
    As always, the pope and the Christians are acting as self-righteous.
    The pope is a very educated man and to be a pope, one has to have a solid grasp of the comparitave religions. He knowingly quoted the “Empror” knowing very well the history of Islam and Christianity and also should know being a pope, that Islam was indeed not spread with sword.
    It was a delibrate attempt to flame the anger of Muslims across the world.
    Just my 2 cents worth!


  2. Salman (unregistered) on September 18th, 2006 @ 12:49 am

    i agree with author here. very well written. i bet 99% of the people and ulema protesting very loud haven’t even read Pope’s speech. an appropriate way is to talk to people from other religions with valid arguments and change the generally negative perception of Islam created by western media. there is so much violence in the name of Christianity that they cannot even talk to us on this subject.


  3. salman (unregistered) on September 18th, 2006 @ 2:44 pm

    پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن

    http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2006/09/060917_pope_text.shtml

    پاپائے روم بینیڈکٹ نے مسلمانوں کی طرف سے ان کے بارہ ستمبر کے بیان پر ناراضگی کے بعد افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاپائے روم کے بیان کا متن۔
    پیارے بہنو اور بھائیو،
    لوگوں کے نجی معاملات میں مدد کے حوالے سے حال ہی میں بواریا کا میرا دورہ طاقتور روحانی تجربہ تھا جس میں جانی پہچانی جگہوں سے اور مقدس پیغام کے مؤثر اظہار کے لیئے شروع کیئے جانے والے لوگوں کی فلاح کے منصوبوں سے وابستہ یادیں شامل تھیں۔

    میں اندرونی خوشی کے لیئے خدا کا شکر گزار ہوں اور میں ان لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پیسٹورل دورے(لوگوں کی نجی زندگی میں مدد کے لیئے کئے جانے والے کام) میں میری مدد کی۔

    اس دورے کے بارے میں مزید بات چیت روایت کے مطابق آئندہ بدھ کو ہونے والے جلسۂ عام میں ہوگی۔

    اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ مجھے جرمنی میں دیئے گئے اپنے بیان کے کچھ حصوں پر، جو مسلمانوں کو برے لگے تھے، چند ممالک میں ہونے والے رد عمل پر بہت افسوس ہے۔

    وہ دراصل قرون وسطیٰ کی ایک دستاویز سے لیئے گئے تھے اور میرے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔

    کل خارجہ امور کے نگران نے اس کے بارے میں ایک بیان جاری کیا تھا میرے بیان کا صحیح مفہوم سمجھایا گیا تھا۔

    میں امید کرتا ہوں کہ اس سے بے چینی ختم ہوگی اور میرے بیان کا درست مطلب واضح ہوگا جو باہمی احترام کے ساتھ بلا تکلف اور مخلصانہ مکالمے کی دعوت ہے۔

    اس سے پہلے ویٹیکن میں خارجہ امور کے نگران تارسیسیو بیرٹونے نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں پاپائے روم بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کی ایک تقریر جس میں انہوں نے اسلام کا حوالہ دیا تھا مسلمانوں کو بری لگی ہے۔

    مسلمانوں کی جانب سے مقدس باپ کی جامعۂ رجینزبرگ میں تقریر کے کچھ حِصّوں پر اعتراض اور ‘ہولی سی’ کے پریس آفس کے ناظم کی طرف سے جاری کی گئی وضاحت میں مندرجہ ذیل اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

    اسلام کے بارے میں پاپائے روم کا مؤقف وہی ہے جو کلیسا کے غیر عیسائی مذاہب کے ساتھ روابط کے بارے میں اعلامیے میں بیان کیا گیا ہے۔

    ‘کلیسا مسلمانوں کو بھی تقریم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ اس ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کا محتاج نہیں، مہربان اور قدرت والا ہے، آسمان اور زمین کا خالق ہے، جو انسان سے مخاطب ہوا، وہ(مسلمان) اس کے مشکل ترین احکامات کی بجا آوری میں ہر تکلیف برداشت کرتے ہیں جیسا کہ ابراہیم نے کیا تھا جس کے ساتھ مذہبِ اسلام اپنا ناطہ جوڑے جانے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔

    وہ عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے لیکن اس کا بحیثیت پیغمبر احترام کرتے ہیں۔ وہ مریم کو بھی بلند مقام دیتے ہیں اور بعض اوقات ان سے عقیدت کے ساتھ رجوع بھی کرتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ان کا آخرت پر ایمان ہے جب خدا مردوں کو زندہ کر کے ان کے میدانوں میں کھڑا کر دے گا۔

    آخر میں وہ اچھی زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں خاص طور پر دعا، خیرات اور روزے کے ذریعے’۔

    پاپائے روم کی بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے بارے میں سوچ میں کوئی شک و شبہہ نہیں۔

    انہوں نے جرمنی کے شہر کولون میں بیس اگست سن دو ہزار پانچ میں مسلمانوں سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے کو ممکنات کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

    ‘ماضی کے تجربات یقیناً ہمیں غلطیوں دہرانے سے روک سکتے ہیں۔ ہمیں صُلح کے راستے تلاش کرنے چاہیں اور ایک دوسرے کی شناخت کو قبول کرتے ہوئے باہمی احترام کے ساتھ جینا چاہیے’۔

    جہاں تک بازنتینی بادشاہ مینویل دوئم کے ان خیالات کا تعلق ہے، جن کا حوالہ انہوں نے ریجنزبرگ میں دیا تھا، پاپائے روم کا ان کو کسی بھی طرح نہ اپنانے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ان کی بات کا یہ مطلب تھا۔

    ان کا یہ حوالہ دینے کا مقصد صرف تعلیمی تناظر میں مذہب اور تشدد کے درمیان تعلق کے موضوع پر عمومی طور پر کچھ خیالات کا جائزہ لینا اور سختی سے اس سوچ کو مسترد کرنا تھا کہ مذہب میں تشدد کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ ان کے بیان کے مکمل متن کے بغور مطالعے سے واضح ہے۔

    اس موقع پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاپائے روم نے حال ہی میں اپنے پیش رو کی طرف سے شروع کیئے جانے والے امن کے بین المذاہبی دعائیہ اجلاس کی بیسویں برسی کے موقع پر کہا تھا کہ ‘۔۔۔۔تشدد کی وجہ مذہب نہیں بیان کی جا سکتی بلکہ یہ ان ثقافتی حدوں کا نتیجہ ہے جن میں اس پر عمل ہوتا ہے اور جن میں یہ پنپتا ہے۔۔۔۔۔در حقیقت خدا کے ساتھ رشتہ اور اخلاقیاتِ محبت میں تعلق کی تمام عظیم مذہبی روایات سے تصدیق ہوتی ہے’۔

    مقدس باپ پس مخلصی کے ساتھ معذرت خواہ ہیں کہ ان کے بیان کے کچھ حصے مسلمانوں کو برے لگے ہوں گے اور ان کا ایسا مطلب نکالا گیا جو کسی بھی طرح ان کا ارادہ نہیں تھا۔

    اور یہ پاپائے روم ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے مشتعل ہونے سے پہلے سیکولر مغربی ثقافت کو متنبہ کیا تھا کہ ‘خدا کی توہین’ اور آزادی اظہار کے ایسے خبط سے باز رہیں جو مقدس چیزوں کی تضحیک کو جائز سمجھتا ہو۔

    پاپائے روم نے اسلام کے ماننے والوں کے لیئے اپنے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان کے الفاظ کا درست مطلب سمجھ سکیں گے تاکہ موجودہ بے چینی کو پیچھے چھوڑ کر ‘انسان سے مخاطب ہونے والے آسمان اور زمین کے خالق’ کی گواہی دی جا سکے اور ‘مِل کر تمام انسانیت کے لیئے انصاف اور اخلاقی بہبود اور امن اور آزادی’ کے لیئے کوششیں تیز کی جا سکیں۔


  4. marium (unregistered) on September 19th, 2006 @ 1:46 am

    Pope definitely knew what he was doing and it was done on purpose but i am sick and tired of the way we react to everything. why can’t we, for a change, have a dialogue with others and try to change the general perception about Islam and Muslims.

    i liked the Saudi point of view on this who asked for an explaination rather straight away going on streets just to become ‘theekedaar of Islam’


  5. sharukh (unregistered) on September 20th, 2006 @ 12:22 am

    hats off to salman and darwaish hats off to you my friend it is time we should educate illitrate muslims on this they should read the the things 100 times before raising an issue one should go thru the whole speech of popo before commenting of course nobody has the right to talk ill about any religion or his mentor but one should sensibly go thru the whole thing before shouting from roof tops this kind of enimity will not help any body it is high time we all think ourselves what is right and what is wrong instead of blindly following our ulemas my friends did you people saw what this molvis did giving fatwas on tv in india after taking money from the medias what a shameful act islam is a great religion which does not need violence to prove nor a pope remarks prophet mohammad was a great messenger of god and if the pope says he did not say anything new but repeated what the early prophets have said let us remind the pope that all the messengers of god are going to spread the same massege what prophet zarthost said moses said what moses said jesus said what jesus said prophet mohammad said yes they all said the same thing about the one only god the most merciful the most benovelontthe greatest of great the one and only almighty god i pray that in our lives we see peace between all religion and this place becomes a loving heaven and not a living hell amen amen amen inshallah


  6. Kashif (unregistered) on September 20th, 2006 @ 3:56 pm

Terms of use | Privacy Policy | Content: Creative Commons | Site and Design © 2009 | Metroblogging ® and Metblogs ® are registered trademarks of Bode Media, Inc.