‘خوش طبع مگر خاموش، کام سے کام رکھنے والا’

GenKiyani.jpg

Profile of Pakistan’s new Chief of Army Staff (COAS), General Ashfaq Pervez Kiyani:

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے تاریک گوشے میں رہنے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کو چمکتی دھوپ میں جب فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تو دنیا بھر میں لوگ ان کی اور ان کے پیشرو کی ایک ایک جنبش کو دیکھ رہے تھے۔
بری فوج کے ہیڈکوارٹر راولپنڈی کینٹ میں ایک رنگارنگ تقریب میں جنرل پرویز مشرف نے جوہری طاقت سے لیس پاکستانی فوج کی کمان کی علامتی چھڑی پچپن سالہ جنرل کیانی کے ہاتھ میں تھمائی۔

اے ایف پی کے نامہ نگار ڈینی کیمپ کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے پیش رو نے کہا: ‘میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے واقف ہوں، یہ ایک بہترین سپاہی ہیں۔’

لیکن شاید اس کی وجہ فوج کی وہ غیر متزلزل حمایت تھی جو خود پرویز مشرف کو ‘صدر جنرل پرویز مشرف’ سے ‘صدر پرویز مشرف’ بننے کے طویل عرصے کے دوران حاصل رہی ہے کہ انہیں حاضرین کو بتانا پڑا کہ انہیں ‘یقین ہے کہ فوج جنرل کیانی کی بھی اسی طرح وفادار رہے گی جیسی کہ وہ خود ان کی تھی۔’

ان کی مصدقہ وفاداری کی وجہ سے آٹھ اکتوبر کو جنرل مشرف نے چین سموکر اور گولف کے دیوانے جنرل اشفاق کیانی کوفوج کا آئندہ سربراہ چنا تھا۔ اپنے اس انتخاب کے بارے میں جنرل مشرف اتنے پُراعتماد ہیں کہ تین ہفتوں سے جاری ایمرجنسی کے پہلے دن جب وہ عام لوگوں کو دکھائی نہیں دیے اور افواہ پھیلی کہ شاید ان کے نائب نے انہیں نظر بند کر دیا ہے تو کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے اس کا جواب قہقہے کی شکل میں دیا تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں فوج کی طاقت کلیدی رہی ہے ایمرجنسی کے نفاذ سے سیاسی بحران میں آنے والی شدت کو کم کرنا شاید جنرل اشفاق کیانی کا پہلا امتحان ہوگا۔

ملک کی اندروی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایک ایسی فوج کے کمانڈر ہونے کی حیثیت سے کہ جو ‘دہشتگردی کے خلاف جنگ’ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے جنرل کیانی کی قیادت باقی دنیا کے لیے بھی اہم ہے۔

لیکن شاید خوش طبع مگر اپنے کام سے مطلب رکھنے والے ایک صوبیدار کے اس بیٹے کی صلاحیتیں سردست پس پردہ رہ کر جنرل مشرف کو موجودہ مشکلات سے نکالنے پر مرکوز ہوں گی۔

وزارت عظمیٰ کے دنوں میں بینظیر بھٹو کے مشیروں میں شامل رہنے والے جنرل کیانی بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان شراکت اقتدار کے لیے ہونے والے مذاکرات کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ اگرچہ اب بینظیر ان مذاکرات کے نتائج سے مکمل مایوسی کا اظہار کر چکی ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنرل کیانی کو پاکستان کے موجودہ سیاسی تناؤ کے دو بڑے کرداروں کا ذاتی اعتماد بہرحال حاصل ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ دوسروں کی بات غور سے سننے کی شہرت رکھنے والے جنرل کیانی کو واشنگٹن میں بھی اہم لوگوں کا اعتماد حاصل ہے جو پاکستان کی صورتحال کو بے چینی سے دیکھ رہے ہیں۔

اپنے آبائی شہر میں قائم ملٹری کالج جہلم کے فارغ التحصیل جنرل کیانی نے انیس سو اکہتر میں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور امریکہ کے جنرل سٹاف کالج فورٹ لیونورتھ کے فارغ التحصیل بھی ہیں۔

نئے نامزد آرمی چیف کو انفینٹری بٹالین سے کور کمانڈنگ تک کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ سن دو ہزار ایک اور دو میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیاں سخت کشیدگی تھی اس وقت وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز تعینات رہے۔

Source: BBC Urdu

2 Comments so far

  1. musharaf commando (unregistered) on November 30th, 2007 @ 1:38 am

    jaisa bap waisa baita,mea beta bhee meree tarah marshal law lagay ga


  2. Asma Razzak (unregistered) on November 30th, 2007 @ 2:20 am

    thanks for sharing… i hope he remains as good as his track record is…



Terms of use | Privacy Policy | Content: Creative Commons | Site and Design © 2009 | Metroblogging ® and Metblogs ® are registered trademarks of Bode Media, Inc.